بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ فور اسٹار ایڈمرل اور اس ملک کی اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے سابق کمانڈر، ولیم میک ریون (William McRaven) نے امریکہ اور ایران کی جنگ کے بارے میں ایک گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن کو ایک قسم کے "کلاسیکل فوجی تعطل" کا سامنا ہے؛ ایسی صورتحال جس میں دونوں فریق اب بھی اپنے حملے جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ حملے جنگ کا حتمی نتیجہ بدل سکیں گے۔
گفتگو کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:
امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے سابق کمانڈر، ریٹائرڈ فور اسٹار ریئر ایڈمرل ولیم میک ریون کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں واشنگٹن ایک "کلاسیکل فوجی تعطل" کا شکار ہے؛ یعنی دونوں فریق حملے جاری رکھ سکتے ہیں، مگر یہ واضح نہیں کہ ان حملوں سے جنگ کا حتمی نتیجہ بدل سکے گا۔

انھوں نے اس صورتحال کو امریکی خارجہ پالیسی کے کے اس پرانے غلط تصور کی واضح مثال قرار دیا کہ "محض فوجی برتری سیاسی مقاصد حاصل کر سکتی ہے۔"
میک ریون کے مطابق امریکی حکومت کے اعلان کردہ اہداف بار بار بدلے ہیں:
- پہلے حکومت کی تبدیلی،
- پھر جوہری پروگرام، اور بعد میں
- آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا۔
انھوں نے یاددہانی کرائی کہ ایران کے رہنماؤں کی شہادت کے بعد بھی:
- ایران کا حکومتی ڈھانچہ قائم رہا، اور یہ کہ
- واشنگٹن کو اب بھی ایران کی جوہری صلاحیت کی اصل صورتحال معلوم نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: اہداف میں اس مسلسل تبدیلی نے عوام اور عالمی برادری کے لئے امریکی حکومت کی حتمی سمت کو سمجھنا مشکل بنا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں میک ریون نے کہا کہ ایران کے پاس بحری آمدورفت میں خلل ڈالنے کے لئے سمندری بارودی سرنگیں شامل ہیں؛ آبنائے کے تنگ ترین مقام (تقریباً 21 میل) پر بارودی سرنگوں کی صفائی میں ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں، اور امریکہ کی اس صلاحیت میں کمی آئی ہے کیونکہ کچھ مائن کاؤنٹر جہاز ریٹائر ہو چکے ہیں۔ یہ آپریشن ممکن تو ہے مگر امریکی افواج کے لئے مہنگا اور خطرناک ہو گا، اور کامیابی کی ضمانت بھی نہیں ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ایران پر حملوں کی تجدید سے تہران کا ردعمل آئے گا جو واشنگٹن کے عرب اتحادیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے ـ مثلاً پانی صاف کرنے کے پلانٹ، ریفائنریاں، بجلی گھر اور گیس کی سہولیات نشانہ بن سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکی بحری جہاز کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جس سے جنگ کی معادلات بدل سکتی ہیں۔

انھوں نے یمن کی انصاراللہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں سے باب المندب اور بحیرہ احمر میں خلل ڈال کر امریکی اتحادیوں پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
میک ریون نے کہا کہ امریکہ دنیا کی طاقتور ترین فوج رکھنے کے باوجود محض فوجی برتری کی بنیاد پر ہر جنگ نہیں جیت سکتا؛ ایران کا معاملہ فوجی طاقت کی محدودیت اور کمزوری کی مثال ہے۔
انھوں نے بین الاقوامی اتحاد بنانے کی دشواری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے جواز اور اعلان کردہ ہدف (ایرانی جوہری خطرے کا مقابلہ) کے بارے میں شکوک نے وسیع عالمی حمایت میں مدد نہیں کی۔
انھوں نے ذاتی طور پر شک ظاہر کیا کہ ایران ایک ہفتے یا ایک مہینے جیسے بہت مختصر عرصے میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے والا تھا، اور زور دیا کہ جنگ سے پہلے رہنماؤں کو پوچھنا چاہئے کہ مطلوبہ ہدف کی قیمت امریکی فوجیوں کی جانوں میں ادا کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ